اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان کے وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ جو تین دن قبل وزیر اعظم کی ہدایت پر کوئٹہ پہنچے تھے نے اسلم رئیسانی کی حکومت کی برطرفی پر اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ رئیسانی حکومت کے خاتمے اور صوبہ بلوچستان میں گورنر راج کے نفاذ پر بلوچستان کے عوام نے سجدہ شکر ادا کیا ہے۔ واضح رہے کہ کوئٹہ میں جمعرات کو ہونے والے دھماکوں اور شیعیان کوئٹہ کی طرف سے دھرنے کے اعلان کے بعد وزیر اعظم پاکستان نے قمرزمان کائرہ اور برطانیہ یاترا پر گئے اسلم رئیسانی کو فوری طور پر کوئٹہ پہنچنے کی ہدایت کی تھی لیکن رئیسانی نے حکم کی تعمیل کا عملا انکار کرتے ہوئے اپنے "دورے" کو جاری رکھا اور کل پیر کے روز ان کی برطرفی کے بعد ملنے والی اطلاعات کے مطابق "نواب اسلم رئیسانی برطانیہ میں ذاتی کاموں میں مصروف رہے" اور انہیں وہیں برطرفی کی خبر دی گئی ہے۔ پیر کی شام کو ملنے والی اطلاعات کے مطابق کے مطابق نواب اسلم رئیسانی کئی روز سے لندن میں ہیں اور وہ اس سے پہلے دبئی میں تھے۔ انکشاف ہواہے کہ برطرف وزیراعلی کیمبرج یونیورسٹی میں اپنے کسی عزیز کے داخلے کے سلسلے میں مصروف ہیں اور وہیں انھیں معلوم ہوا ہے کہ ان سے عہدہ لے کر صوبے میں گورنر راج نافذ کردیا گیا ہے۔ نواب اسلم رئیسانی 1999 کے انتخابات میں پیپلز پارٹی کی جانب سے رکن بلوچستان اسمبلی منتخب ہوئے تھے جبکہ 2008 ء کے انتخابات میں کامیابی کے بعد وہ بلا مقابلہ وزیراعلیٰ بھی منتخب ہوئے۔ بلوچستان کی وزارت اعلیٰ سنبھالنے کے بعد وہ صوبے میں امن وامان کی خراب صورت حال کے باوجود وہ اپنا زیادہ تر وقت بلوچستان سے باہر گزارتے تھے؛ شدید اخلاقی گراوٹ پر مبنی ان کے اسکینڈلز بھی منظر عام پر آچکے تھے!ان کا بدنام زمانہ جملہ وہ تھا جو انھوں نے شراب کے نشے میں دھت مستونگ میں شیعہ زائرین کی شہادت کے سلسلے میں کہا تھا ہماری آبادی کروڑوں میں ہے چنانچہ چند سو افراد کے قتل سے انہیں کوئی فرق نہيں پڑتا اور اگر شہداء کے خاندانوں کو آنسو پونچھنے کے لئے ٹیشو پیپر کی ضرورت ہے تو ہم ان کے لئے کئی ٹرک ٹیشو پیپر بھجوانے کے لئے تیار ہیں"۔قبل ازیں بلوچستان امن و امن کیس میں بھی سپریم کورٹ نے صوبائی حکومت پر شدید تنقید کی تھی اور اسے ناکام قرار دیا تھا تاہم نواب اسلم رئیسانی نے عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا تھا۔
ایک اور رپورٹ جنگ سے:برطرف وزیراعلیٰ فائیو اسٹار ہوٹل میں مزے کررہے ہیں برطرف وزیراعلیٰ نواب رئیسانی کیمبرج میں واقع ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں موجود ہیں۔ علاج کا ایک بہانہ تھا وہ تو اپنے کسی عزیز کے داخلے کے سلسلے میں گئے ہیں اور وہاں ایک مہنگے ہوٹل میں مزے کررہے ہیں۔ جیو نیوز کے رپورٹر مرتضیٰ علی شاہ نے بتایا کہ برطرف وزیراعلیٰ کیمبرج کے ایک فائیو اسٹارلگژری ہوٹل میں اپنی فیملی سمیت دیگر 9 افراد کے ساتھ ٹہرے ہوئے ہیں۔ ان کا کسی ڈاکٹر سے اپائنٹمنٹ نہیں ہے اور نہ انہوں نے کسی سے چیک اپ کرایا ہے۔ نواب اسلم رئیسانی کے رشتے دار اور پرسنل سیکرٹری ودیگر نے ہوٹل کی لابی میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ برطرف وزیراعلیٰ 2 دن سے اسی ہوٹل میں مقیم ہیں تا ہم موجودہ صورتحال میں وہ کل یہاں سے جاسکتے ہیں۔رپورٹر نے بتایا کہ برطرف وزیراعلیٰ اپنے علاج کے لیے نہیں اپنے کسی عزیز کے داخلے کے لیے کیمبرج کے آفیشلز سے ملاقاتیں کی ہیں ۔ اور سانحہ کوئٹہ کے باوجود ایک فائیو اسٹار ہوٹل میں مزے کررہے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔/110